آسنسول31مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) منصوبہ بند طریقے سے بنگال کے دیگر اضلاع میں برپا کیے جارہے فرقہ وارانہ فسادات کے درمیان مغربی بنگال کے گورنر کے این ترپاٹھی نے آج یہاں ایک گھنٹے تک سینئر پولیس افسران اور انتظامی افسران کے ساتھ میٹنگ کرکے فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں جھلس چکے متاثرہ علاقہ رانی گنج اور آسنسول کے احوال دریافت کئے ۔ بردوان ویسٹ ڈسٹرکٹ کے رانی گنج علاقے میں پیر کو رام نومی جلوس کے دوران دو گروپوں کے درمیان ہوئی جھڑپ میں ایک شخص کی موت ہو گئی اور دو پولیس افسربھی شدید زخمی ہو گئے تھے ۔ آسنسول میں بھی تشدد واقع ہوا تھا جس کے بعد انتظامیہ نے انٹر نیٹ خدمات ٹھپ کر دی تھی اور ضلع کے پر کشیدہ علاقوں میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت حکم امتناعی نافذ کر دیا گیا تھا ۔ گورنر آج صبح آسنسول کے سرکٹ ہاؤس پہنچے، وہ آج شام کو رانی گنج اور آسنسول کے تشدد زدہ علاقوں کا بھی دورہ کریں گے ۔اس ہفتے کے شروع میں ریاستی حکومت نے انہیں سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے آسنسول اور رانی گنج نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔ مرکزی وزیر بابل سپریو اور ریاست میں بی جے پی کی خاتون مورچہ صدر لاکٹ چٹرجی کو بھی آسنسول۔ رانی گنج علاقہ میں جمعرات کو پولیس نے داخل ہونے سے روک دیا تھا۔واضح ہو کہ صبر و تلقین کی دعوت دیتے ہوئے نورانی مسجد کے امام مولانا امداداللہ رشیدی نے کہا تھا کہ تشدد میں ان کے بیٹے کی بھی قتل ہوا ہے؛ لیکن پولیس کی نااہلی کی وجہ سے سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے ۔ مولانا امداد اللہ رشیدی نے علاقہ میں لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی درخواست کی تھی،واضح ہو کہ مولانا امداداللہ رشیدی کا 18سالہ حافظ قرآن لڑکا ٹیوشن پڑھ کر گھر لوٹ رہا تھا تواسی دوران شرپسندوں کی بھیڑ نے اسے اچک لیا تھا ، ان کے بڑے صاحبزادے نے جب پولیس کو اس کی اطلاع دی تو پولیس نے نااہلی کا بدترین ثبوت پیش کرتے ہوئے الٹا بڑے صاحبزادے کو لاک ا پ میں بند کردیا بعد میں وارڈ پریشد کی کوشش سے تھانہ سے بازیاب کرایا گیا اسی دوران دو دن کے بعد مولانا کے دوسرے 18سالہ صاحبزادے کی مسخ لاش ملی جسے درندگی کے ساتھ قتل کرکے جلایا گیا تھا حتیٰ کہ شہید کے ناخن بھی کھنچ لیے گئے تھے ۔ایک سینئر پولیس حکام نے بتایا کہ حکم ا متناعی اب بھی نافذ ہے؛ کیونکہ یہاں اب بھی صورت حال کشیدہ ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین دن میں تشدد کے کسی طرح کاواقعہ پیش نہیں آیاہے۔ یہاں بڑی تعداد میں پولیس فورس اور دوسری کمپنی کی نفری فلیگ مارچ کر رہی ہے ۔